Ban Ho, Abar Ho, Taiz Hawa Ho

April 27, 2007 on 10:30 am | In Shoola e Gul |

بن ہو، ابر ہو، تیز ہوا ہو

تیرے حُسن کا دِیا جلا ہو

پو بھی پھٹی، طوفان بھی اُٹھا

اب کوئی کیا جانے کیا ہو

آج کی کلیاں کب چٹکیں گی

شاید مستقبل کو پتا ہو

چاند بھی ساکن، وقت بھی ساکن

شاید توُ کچھ سوچ رہا ہو

پت جھڑ میں کیوں پھوُل نہ ڈھونڈے

جس نے تجھے کھو کر پایا ہو

بیلیں سی بَل کھاتی ہیں جب

کوئی سہارا ٹوٹ چلا ہو

توُ نے یوُں شرما کر دیکھا

جیسے تھک کر دِیا بُجھا ہو

میری تنہائی کی دُعا ہے

تیرے ساتھ بھری دُنیا ہو

وقتِ سحر یوُں کلیاں چٹکیں

جیسے تیرا نام لیا ہو

انساں کا معیار یہی ہے

خُوب دُکھی ہو، خُوب اچھا ہو

دِیے بُجھے ہیں، پھوُل کھِلے ہیں

شاید یہ شہراہِ صبا ہو

تو کہتا ہے تارا ٹوُٹا

اور اگر آنسوُ ٹپکا ہو!

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^