Lapkain Gai Palat Kay Phir Wahaan Say

April 27, 2007 on 10:46 am | In Shoola e Gul | 2 Comments

لپکیں گے پلٹ کے پھر وہاں سے

بھٹکے تھے یہ کارواں جہاں سے

اِک ٹیِس فضا کے دل میں اُٹھی

یا تیر نِکل گیا کماں سے

بیدارئی شب کے بدلے ہم نے

دن پائے، مگر دُھواں دُھواں سے

ہر گُل ہے پناہ گاہِ زنبور

گُل چھیں کو گِلہ ہے باغباں سے

پھوُلوں کی بھی خاک اُڑا رہے ہیں

لپٹے ہیں جو دامنِ خزاں سے

جو پیار نہ کر سکے زمیں سے

پائیں گے نہ بھِیک آسماں سے

کُچھ اور نہیں حشر ٹُوٹے

اب خواب تو ہو چلے گراں سے

ہم آبلہ پا ہی، اے زمانے!

اُلجھیں گے ترے یمِ رواں سے

اُڑتا ہے مذاق بجلیوں کا

اب پھُول گریں گے آسماں سے

یزداں پہ جھَپٹ پڑے گا ابلیس

انسان ہٹا جو درمیاں سے

گنجینۂ وقت بن گئی ہے

جو بات نِکل گئی زباں سے

Next Page »

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^